اعتکاف - فضیلت واہمیت اور احکام

اعتکاف - فضیلت واہمیت اور احکام

(Moulana Muhammad Nasir Khan Chishti, Karachi)

”اعتکاف“لغوی اعتبارسے”ٹھہرنے “کوکہتے ہیں۔جبکہ اصطلاحِ شریعت(Tarm of Islamic)میں اعتکاف کامعنی ہے:مسجد میں اور روزے کے ساتھ رہنا،جماع کوبالکل ترک کرنا اور اللہ تعالیٰ سے تقرب اوراجرو ثواب کی نیت کرنا اورجب تک یہ معانی نہیں پائے جائیں گے تو شرع اًاعتکاف نہیں ہوگ الیکن مسجدمیں رہنے کی شرط صرف مردوں کے اعتبارسے ہے۔ عورتوں کیلئے یہ شرط نہیں ہے بلکہ خواتین اپنے گھرمیں نماز کی مخصوص جگہ کویا کسی الگ کمرے کو مخصوص کرکے وہاں اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں۔ہرمسجد میں اعتکاف ہو سکتاہے،البتہ بعض علماءنے اعتکاف کیلئے ”جامع مسجد“کی شرط لگائی ہے۔(احکام القرآن:جلد1صفحہ242)

اعتکاف کی تاریخ
اعتکاف!اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی بجالانے کاایک ایسامنفرد طریقہ ہے جس میںمسلمان دنیا سے بالکل لاتعلق اورالگ تھلگ ہوکراللہ تعالیٰ کے گھرمیںفقط اس کی ذات میںمتوجہ اورمستغرق ہوجاتاہے۔ اعتکاف کی تاریخ بھی روزوں کی تاریخ کی طرح بہت قدیم ہے۔قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اس کاذکربھی یوںبیان ہوا ہے۔ارشادِخداوندی ہے:
ترجمہ: ”اورہم نے حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل علیہماالسلام کوتاکیدکی کہ میراگھر طواف کرنے والوں کیلئے،اعتکاف کرنے والوں کیلئے اوررکوع کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھیں“۔(سورة البقرہ: آیت نمبر125)

یعنی اس وقت کی بات ہے جب جدالانبیاءحضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کعبة اللہ کی تعمیرسے فارغ ہوئے تھے یعنی اس زمانہ میںاللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے اعتکاف کیاجاتا تھا۔

اعتکاف کی فضیلت واہمیت
حضورسیدالانبیاءمحبوبِ کبرےاحضرت محمدمصطفیﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں ہمیشہ اعتکاف کیاہے اوراس کی بہت زیادہ تاکیدفرمائی ہے۔چنانچہ امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ بے شک حضورنبی کریمﷺرمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاںت ک کہ آپﷺخالق حقیقی سے جاملے۔پھرآپﷺکی ازواجِ مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں“۔
(صحیح بخاری،صحیح مسلم)

دوحج اور دوعمروں کا ثواب
Oحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایاکہ:”جس شخص نے رمضان المبارک میںآخری دس دنوں کا اعتکاف کیاتو گویاکہ اس نے دوحج اوردوعمرے ادا کئے ہوں“۔(شعب الایمان)

Oحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف(اعتکاف کرنے والے)کے بارے میںفرمایاکہ:”وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیاں اس کے واسطے جاری کردی جاتی ہیں، اس شخص کی طرح جویہ تمام نیکیاں کرتاہو“۔(سنن ابن ماجہ،مشکوٰة )

اس حدیث مبارک سے معلوم ہواکہ معتکف یعنی اعتکاف کرنے والا، اعتکاف کی حالت میں بہت سی برائیوں اورگناہوں....مثلاًغیبت، چغلی، بری بات کرنے،سننے اوردیکھنے سے خودبہ خود محفوظ ہوجاتاہے، ہاں البتہ اب وہ اعتکاف کی وجہ سے کچھ نیکیاں نہیں کرسکتا مثلاً قبرستان کی زیارت، نمازِجنازہ کی ادائیگی،بیمارکی عیادت ومزاج پرسی اورماںباپ واہل وعیال کی دیکھ بھال وغیرہ لیکن اگرچہ وہ ان نیکیوں کوانجام نہیں دے سکتا لیکن اللہ تعالیٰ اسے یہ نیکیاں کئے بغیرہی ان تمام کا اجرو ثواب عطافرمائے گا،کیونکہ معتکف اللہ کے پیارے رسول ﷺکی سنت مبارکہ ادا کررہاہے جودرحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت وفرمانبرداری ہے۔

اعتکاف کی غرض وغایت،شب قدرکی تلاش:

Oحضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا،پھردرمیانی عشرے میںبھی ترکی خیموں میں اعتکاف فرمایا پھرخیمہ سے سراقدس نکال کرارشادفرمایاکہ: ”میںنے پہلے عشرے میں”شب قدر“کی تلاش میں اعتکاف کیاتھا پھر میںنے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیاپھرمیرے پاس ایک فرشتہ آیااورمجھ سے کہاکہ شب قدرآخری عشرے میں ہے،پس جوشخص میرے ساتھ اعتکاف کرتاتھاتو اسے آخری عشرے میں ہی اعتکاف کرنا چاہئے “۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم )

مندرجہ بالاحدیث مبارک سے معلوم ہواکہ اس اعتکاف کی سب سے بڑی غرض وغایت”شب ِقدر“کی تلاش وجستجو ہے اوردرحقیقت اعتکاف ہی اس کی تلاش اوراس کوپانے کیلئے بہت مناسب ہے،کیونکہ حالت اعتکاف میں اگر آدمی سویاہوا بھی ہوتب بھی وہ عبادت وبندگی میں شمارہوتاہے ۔نیز اعتکاف میں چونکہ عبادت وریاضت اورذکر و فکرکے علاوہ اورکوئی کام نہیں رہے گا،لہٰذا شب قدر کے قدر دانوں کیلئے اعتکاف ہی سب سے بہترین صورت ہے۔ حضور سیدعالمﷺکا معمول بھی چونکہ آخری عشرے ہی کے اعتکاف کارہاہے،اس لئے علمائِ کرام کے نزدیک آخری عشرہ کا اعتکاف ہی سنت موکدہ ہے۔

اعتکاف کی روح اورحقیقت
اعتکاف کی اصل روح اورحقیقت یہ ہے کہ آپ کچھ مدت کیلئے دنیا کے ہرکام ومشغلہ اورکاروبارِ حیات سے کٹ کراپنے آپ کوصرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کیلئے وقف کردیں۔اہل وعیال اورگھربارچھوڑکراللہ کے گھرمیں گوشہ نشین ہو جائیں اورساراوقت اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی اور اس کے ذکرو فکرمیں گزاریں۔ اعتکاف کاحاصل بھی یہ ہے کہ پوری زندگی ایسے سانچے میں ڈھل جائے کہ اللہ تعالیٰ کواوراس کی بندگی کودنیاکی ہرچیز پرفوقیت اورترجیح حاصل ہو۔

اعتکاف کاپہلاحق یہ ہے کہ رمضان المبارک کے پورے آخری عشرے کااعتکاف کیاجائے۔سب سے افضل مسجدمیں اعتکاف کرے، مثلاً مسجدحرام،مسجد نبوی ﷺاورجامع مسجدوغیرہ۔ قرآن وحدیث کی تلاوت اورفقہ اسلامی وتاریخ اسلام کی کتابوں کامطالعہ کرے۔کثرت سے نوافل ادا کرے۔ اپنے تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں،ظاہروپوشیدہ گناہوںپرتوبہ واستغفارکرے اور زندگی بھرکی قضاءنمازیں پڑھتارہے اور صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرکے اپنے ربِّ کریم کوراضی کرنے کی کوشش کرتارہے۔

معتکف اگربہ نیت عبادت خاموش رہے یعنی خاموش رہنے کو ثواب سمجھے تویہ مکروہ ہے اوراگرچپ رہناثواب نہ سمجھے توکوئی حرج نہیں ہے اورفضول وبری باتوںسے پرہیزکرے تویہ مکروہ نہیںبلکہ اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔

جیساکہ ایک حدیث پاک میںحضوراکرمﷺکاارشاد ہے کہ: ”مسجد میںدنیاوی باتیں کرنانیکیوں کواس طرح ختم کردیتاہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے“۔(الحدیث)

معتکف کوچاہئے کہ وہ مدتِ اعتکاف کوآرام وسکون کاایک موقع سمجھ کر ضائع نہ کرے کہ دن رات صرف سوتاہی رہے یایوں ہی مسجدمیںٹہلتارہے بلکہ سونے اورآرام کرنے میں کم سے کم وقت ضائع کرے ....اور اعتکاف کے ایام کواپنی تربیت اورآئندہ زندگی کے سنہری اورخاص دن سمجھے.... اور عبادت وریاضت میںسخت محنت کرے....اس طرح کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں خصوصاًاپنی قضاءنمازیںپڑھتارہے ....قرآن وحدیث کی تلاوت کرے.... درودوسلام کاوردکرتارہے ....اورفقہ و اسلامی کتابوں کامطالعہ کرتارہے۔

اعتکاف کرنے والادنیاکے مشاغل سے الگ ہوکرخودکو عبادت الٰہی کے سپردکردےتاہے اوراعتکاف کے ایام میں معتکف بندہ فرشتوں کے مشابہ ہوجاتاہے، جواللہ تعالیٰ کی بالکل معصیت و نافرمانی نہیں کرتے بلکہ ہمہ وقت اللہ کے احکام پرعمل کرتے ہیں اوردن رات تسبیح وتحمیداورتہلیل وتمجید میںمشغول رہتے ہیں۔نمازی! نمازپڑھ کرچلے جاتے ہیںلیکن معتکف اللہ تعالیٰ کے گھرکو نہیںچھوڑتااوروہیںوھرنا مارکربیٹھارہتاہے۔ پس اس کیلئے اللہ جل شانہ کی رحمتیں،نعمتیں،برکتیں،سعادتیں اورانعامات واحسانات بھی زیادہ متوقع ہیں۔(تفسیرتبیان القرآن:جلد1،صفحہ737)

اعتکاف کی قسمیں
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
اوّل.... اعتکاف ِ واجب
دوم.... اعتکاف ِ سنت
سوم.... اعتکافِ مستحب

اعتکاف ِ واجب
اعتکاف واجب یہ ہے کہ کسی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں اتنے دن کااعتکاف کروں گااوراس کاوہ کام ہوگیا تویہ اعتکاف کرنا واجب ہے اور اس کا پورا کرنا واجب ہے ادائیگی نہیں کی تو گناہ گار ہوگا۔ واضح رہے کہ اس اعتکاف کیلئے روزہ بھی شرط ہے،بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہیں ہوگا۔

اعتکاف سنت
اعتکاف ِسنت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کیاجاتاہے یعنی بیسویں رمضان کوسورج غروب ہونے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد (جائے اعتکاف)میں داخل ہو جائے اورتیسویں رمضان کو سورج غروب ہونے کے بعد یا انتیسویں(29ویں)رمضان کو عید الفطر کاچاند ہوجانے کے بعد مسجد (جائے اعتکاف) سے نکلے.... واضح رہے کہ یہ اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر محلہ کے سب لوگ چھوڑدیں گے تو سب تارکِ سنت ہوں گے اور اگرکسی ایک نے بھی کرلیا تو سب بری ہو جائیں گے۔ اس اعتکاف کیلئے بھی روزہ شرط ہے،مگر وہی رمضان المبارک کے روزے کافی ہیں۔

اعتکافِ مستحب
اعتکاف ِمستحب یہ ہے کہ جب کبھی دن یارات میں مسجد میں داخل ہو تواعتکاف کی نیت کرلے۔ جتنی دیرمسجد میں رہے گا،اعتکاف کاثواب پائے گا۔یہ اعتکاف تھوڑی دیر کا بھی ہوسکتاہے اور اس میں روزہ بھی شرط نہیں ہے،جب مسجد سے باہر نکلے گاتواعتکاف ِمستحب خود بہ خود ختم ہوجائے گا۔

مفسداتِ اعتکاف
Oاُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ.... اعتکاف کرنے والے کیلئے سنت یہ ہے کہ وہ(حالت ِاعتکاف میں)مریض کی عیادت کونہ جائے اورنہ ہی نمازِجنازہ میں شریک ہواورنہ ہی عورت کے ساتھ مباشرت وجماع کرے اورنہ کسی کام کیلئے نکلے سوائے ضروری (طبعی اورشرعی ) حاجتوں کے اور اعتکاف روزہ کے ساتھ ہی ہوتاہے اوراعتکاف ایسی مسجدمیں ہوتاہے،جہاںنماز باجماعت ہوتی ہو“۔(سنن ابی داﺅد،مشکوٰة المصابیح)

کسی شرعی عذرکے بغیرمسجدسے باہرنکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ بول وبرازکیلئے اورنمازِ جمعہ کیلئے جاناشرعی عذرہے....وضوکیلئے اور غسل جنابت کیلئے جانابھی عذرشرعی ہے....کھانے،پینے اورسونے کیلئے مسجدسے باہرجاناجائزنہیں ہے اوراگرکوئی مریض کی عیادت کیلئے یانمازِ جنازہ پڑھنے کیلئے مسجدسے باہرگیاتواس کااعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

اعتکاف کی قضا ء
فقیہ ا لامت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمتہ(متوفی1252ھ) لکھتے ہیں کہ: ”رمضان المبارک کے آخری عشرے کااعتکاف ہرچندکہ نفل(سنت موکدہ) ہے،لیکن شروع کرنے سے لازم ہو جاتاہے۔اگرکسی شخص نے ایک دن کا اعتکاف فاسدکردےاتوامام ابویوسف کے نزدیک اس پر پورے دس کی قضاءلازم ہے،جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ اورامام محمدبن حسن شیبانی رحمة اللہ علیہماکے نزدیک اس پرصرف اسی ایک دن کی قضاءلازم ہے۔(ردالمحتار:131/2)

اعتکاف کی قضاءصرف قصداًوجان بوجھ کرہی توڑنے سے نہیں بلکہ اگرکسی عذرکی وجہ سے اعتکاف چھوڑ دیا مثلا ًعورت کوحیض یانفاس آگےا یاکسی پر جنون وبے ہوشی طویل طاری ہوگئی ہوتواس پربھی قضاءلازم ہے اور اگر اعتکاف میں کچھ دن فوت ہوں توتمام کی قضاکی حاجت نہیں بلکہ صرف اتنے دنوں کی قضاکرے،اوراگرکل دن فوت ہوں توپھرکل کی قضاءلازم ہے۔

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں دس دن بغیر غسل کے گزارناسخت تنگی کا باعث ہے۔ساراجسم پسینہ سے شرابورہوجاتا ہے اورگرمی وبدبوسے براحال ہوجاتاہے توکیا اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ بدن کوٹھنڈک پہنچانے کیلئے غسل کرلیا جائے،توعرض یہ ہے کہ جس طرح روزے میں ایک گھونٹ پانی پینے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے،اسی طرح اعتکاف میں ایک باربھی بغیرحاجت انسانی اورضرورتِ شرعیہ(مثلاًنمازِ جمعہ پڑھنایااحتلام کے بعدغسل کرنا)کے نکلنے سے اعتکاف باطل ہو جاتاہے۔

دعاءہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کوسنت اعتکاف اوراس کی حقیقت اورروح پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے اورہمیں اس کی بے حساب رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب فرمائے۔آمین

سعودی عرب سب سے بڑا فرقہ پرست ملک

ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻗﮧ ﭘﺮﺳﺖ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ – ﺍﻧﺴﭩﯽ ﭨﯿﻮﭦ ﻓﺎﺭ ﮔﻠﻒ ﺍﻓﺌﯿﺮﺯ

ﺁﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﺴﭩﯽ ﭨﯿﻮﭦ ﻓﺎﺭ ﮔﻠﻒ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﻣﺤﻘﻖ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺸﻮﺭ ﮨﯿﮟ ،ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﮐﺮﺳﭩﻮﻓﺮ ﮈﯾﻨﯿﻮﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻠﮑﺮ ﻋﺮﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﺗﻘﺎﺑﻠﯽ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﭻ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﮬﺎﻧﭽﮧ ﻓﺮﻗﮧ ﭘﺮﺳﺘﺎﻧﮧ ﮨﮯ

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺤﻘﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﮈﮬﺎﻧﭽﮯ،ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﺷﺎﮨﯽ، ﺍﮨﻢ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﮐﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺁﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺳﭩﻮﻓﺮ ﮈﯾﻨﯿﻮﺏ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﻠﻔﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﺠﺪ ﮐﮯ ﻭﮨﺎﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻏﻠﺒﮯ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﻧﮯ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﮐﯽ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﻠﮏ ﮨﮯ
ﺁﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﯿﮉﯾﺎ ، ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺷﻌﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺎﺑﯽ ﮐﺘﺐ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﮯ ﻓﮩﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻭﺍﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺩ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺻﻮﻓﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺣﺠﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ / ﺻﻮﻓﯽ ﺳﻨّﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻭﺍﺭﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻌﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﻤﮧ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﻓﺮﻗﮧ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﮨﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﻧﺠﺪﯼ ﻭﮨﺎﺑﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﮩﻮﺭﯼ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ 1925 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﺠﺎﺯ ﭘﺮ ﻧﺠﺪ ﺳﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ،ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﮐﮯ ،ﺑﮍﮮ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺣﺠﺎﺯﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﮐﺮ ،ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﺩﺭﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺠﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻭ ﻣﻨﺎﻝ ﮐﯽ ﻟﻮﭦ ﻣﺎﺭﮐﺮﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ
ﺁﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﮐﻮ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﻮﺩ ﻧﮯ 1932 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺳﺘﻢ ﻇﺮﯾﻔﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﮑّﮧ ﻭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﺷﮩﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﻮ ،ﻟﯿﭩﺮﮮ ﺍﻭﺭﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺎﻣﺮﺍﺝ ﮐﮯ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ 1932 ﺀ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﺬﮬﺐ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺟﺐ ﺗﮏ ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﺎ ﺣﺼّﮧ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﺭﮨﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﮩﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﻨّﯽ ﺣﻨﺒﻠﯽ ﻭ ﺷﻮﺍﻓﻊ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﮑﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﺩﻭ ﻓﻘﮩﯽ ﻣﺴﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺍﻟﺤﺴﻦ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﮐﮯ ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻓﮑﺮ ﺳﻨّﯽ ﺍﺷﺎﻋﺮﮦ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺠﺪ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﺪﻭﯼ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﮨﺎﺏ ﻧﺠﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﻣﻠﮑﺮ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻭ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﮐﮯ ﺯﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﮐﻮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﺳﻌﻮﺩ ﻧﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺣﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺣﺠﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺟﻮﮐﮧ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﯽ ﭘﺮ ﺳﻠﻔﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻧﺠﺪﯼ ﻣﺴﻠﮏ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺗﮭﻮﭘﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ،ﻣﻴﮉﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﮯ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺗﺤﻮﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺯﺭﺍﯾﻊ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﻏﯿﺮ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻼﺯﻣﺘﻮﮞ ، ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﻭ ﺳﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﻋﻠﯽ ﺁﻝ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺟﻮ ﻭﺯﺭﺍﺗﯽ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻋﮩﺪﮮ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺭﯾﺎﺳﺖ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ،ﻧﺎﺋﺐ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ،ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ،ﻭﺯﯾﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﮔﺎﺭﮌ،ﻭﺯﯾﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺩﯾﮩﯽ ﺍﻣﻮﺭ،ﻭﺯﯾﺮ ﺗﯿﻞ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺍﯾﺠﻮﮐﯿﺸﻦ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺍﻣﻮﺭ، ﻭﺯﯾﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺩﺍﺧﻠﮧ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺩﻓﺎﻉ ،ﺍﻧﭩﯿﻠﯽ ﺟﻨﺲ ﭼﯿﻒ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﺠﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﮑﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﺭﻭﮐﺮﯾﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﺠﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﺒﮯ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻨﺘﯿﺎﻥ ﻧﮯ 2004 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺍﺷﺮﺍﻑ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺟﺴﮯ ﺳﻨﭩﺮ ﻓﺎﺭ ﻋﺮﺏ ﺍﺳﭩﮉﯾﺰ ﻟﺒﻨﺎﻥ ﻧﮯ 2004 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﻊ ﮐﯿﺎ
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺑﯿﻮﺭﻭﮐﺮﯾﺴﯽ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﮑﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﻣﻨﺼﻔﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﻴﮟ ﻗﻄﻌﯽ ﻏﻠﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻧﺠﺪﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﺑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﻨﺌﯿﺮ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺍﻓﺴﺮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ 70 ﻓﯿﺼﺪ ﻧﺠﺪ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﺠﺎﺯﯼ 20 ﻓﯿﺼﺪ ، 2 ﻓﯽ ﺻﺪ ﺩﯾﮕﺮ ﺑﺪﻭﯼ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﺠﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 8 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﺠﺪﯼ،ﺣﺠﺎﺯﯼ ،ﺑﺪﻭﯼ ﻗﺒﺎﺋﯿﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﻓﯽ ﺳﻨّﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﻨّﯽ ﺣﻨﻔﯽ ،ﻣﺎﻟﮑﯽ ،ﺷﺎﻓﻌﯽ ،ﺣﻨﺒﻠﯽ ﺍﻓﺴﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﻭﺯﺭﺍﺕ ﺧﺎﺭﺟﮧ ،ﻭﺯﺭﺍﺕ ﺩﻓﺎﻉ ،ﻭﺯﺭﺍﺕ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﺍﻧﭩﯿﻠﯽ ﺟﻨﺲ ﺍﯾﺠﻨﺴﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﻓﻮﺭﺳﺰ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻧﺠﺪﯼ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺛﺎﻧﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﺎﺋﺮ ﺍﯾﺠﻮﮐﯿﺸﻦ ﺗﮏ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﺩﯾﮕﺮ ﻣﺴﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻧﺼﺎﺏ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺮﯾﻦ ﻭﺍﺷﻨﮓ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﺎﻣﻌﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﻌﺒﮧ ﺍﺳﻼﻣﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻌﺒﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﺲ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻧﮑﺘﮧ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭩﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ 13 ﺻﻮﺑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ 13 ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺁﺋﮯ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺧﻔﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﻨﺎﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﻓﻮﺭﺳﺰ ﮐﺮﯾﮏ ﮈﺍﺅﻥ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻋﻠﯽ ﺁﻝ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ 2008 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺠﺰ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﺟﻮﮈﯾﺸﻞ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺟﻮﮐﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﻮﻟﻮﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭼﯿﻒ ﺟﺴﭩﺲ ﺳﻤﯿﺖ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺠﺰ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﮮ ﮈﺍﻟﯽ
ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺟﺞ ﭼﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ 13 ﺻﻮﺑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺻﻮﺑﮯ ﮐﺎ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﻧﺠﺪﯼ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ 13 ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺌﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮨﯿﮟ
ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻋﺮﻑ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﻨّﯽ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺷﺮﮎ ،ﺑﺪﻋﺖ ،ﺿﻼﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮨﮯ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﺻﺮﻑ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﻨّﯽ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﺤﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﻧﻮﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﻮﻑ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻓﺮﻗﮧ ﭘﺮﺳﺘﺎﻧﮧ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻋﺎﻧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺵ ﺍﭘﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ
ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﯿﻊ ﭘﺴﻨﺪﺍﻧﮧ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺍﻣﺮ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ 1932 ﺀ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺟﺰﯾﺮۃ ﺍﻟﻌﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﻨّﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﻮ ﺍﻗﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺯﻡ ﮐﻮ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﺬﮬﺐ ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﮉﻝ ﺍﯾﺴﭧ ،ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺍﯾﺸﯿﺎ ،ﻣﺸﺮﻕ ﺑﻌﯿﺪ ،ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺯﻡ ﮐﯽ ﺗﻮﺳﯿﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺟﮩﺎﺩﯼ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 25 ﺳﮯ 30 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺯﻡ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻋﺴﮑﺮﯾﺖ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﭘﮭﯿﻼﺅ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺯﻡ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺘﺠﮧ ﻓﺘﻨﮧ ﺗﮑﻔﯿﺮ ﻭ ﺧﺎﺭﺟﯿﺖ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻭﮨﺎﺑﯿﺖ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ،ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺤﺎﺩﯼ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻓﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﺳﮯ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﮐﮭﻤﺒﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮒ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺗﻮﺳﯿﻊ ﭘﺴﻨﺪﺍﻧﮧ ﻭﮨﺎﺑﯽ -ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻣﺎﮈﻝ ﻧﮯ ﻣﺬﮬﺒﯽ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮕﯽ ،ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ ﮐﻮ ﻓﺘﻨﮧ،ﻓﺴﺎﺩ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﮨﺎﺑﯽ - ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺗﮑﻔﯿﺮﯼ ﺧﺎﺭﺟﯽ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ
ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺍﺯﻡ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﯾﻠﻐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﻝ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺍﺯﻡ ﺳﮯ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﮨﯿﮟ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 70 ﺀ ﮐﯽ ﺩﮬﺎﺋﯽ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺎﺏ ،ﺟﻨﻮﺑﯽ ﭘﻨﺠﺎﺏ ،ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ،ﺧﯿﺒﺮ ﭘﺨﺘﻮﻥ ﺧﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﮦ ﮈﻭﯾﮋﻥ ،ﺍﻧﺪﺭﻭﻥ ﺳﻨﺪﮪ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 85 ﻓﯿﺼﺪ ﺳﻨّﯽ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ، 7 ﻓﯿﺼﺪ ﺷﯿﻌﮧ ، 6 ﻓﯿﺼﺪ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﻓﯿﺼﺪ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻋﺪﺍﺩ ﻭ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ 11 ﺍﺿﻼﻉ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ 33 ﻓﯿﺼﺪ ،ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ 50 ﺳﮯ 52 ﻓﯿﺼﺪ ، 10 ﻓﯿﺼﺪ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﻭﺭ 6 ﺳﮯ 7 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ،ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﺍﺿﻼﻉ ﻣﯿﮟ 80 ﺀ ﮐﯽ ﺩﮬﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺑﺘﮏ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻓﮑﺮ 27 ﻓﯿﺼﺪ ﺑﺮﯾﻠﻮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭧ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﻣﯿﮟ 33 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﻞ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺩﯾﻨﯿﮧ ﮐﺎ 50 ﺳﮯ 60 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﻄﻠﺐ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺳﮯ 17 ﻓﯿﺼﺪ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﻣﺪﺍﺭﺱ 25 ﺳﮯ 30 ﻓﯿﺼﺪ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﺼﻒ ﮐﻢ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮐﯽ ﻟﯿﮑﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﺍﻭﺭ ﯾﻮ ﺍﮮ ﺍﯼ ﺳﮯ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﮈﺍﻟﺮ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪ ﺯﮬﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

قرآنی آیات جو بنی اسرائیل کے لیے اتری جنہوں نے اپنے ایک فرقے کے ساتھ خون ریزی کی اور وطن سے نکال دیا اور یہی کام سعودیہ نے کیا مسلمانوں کے  سنی اور بریلوی فرقے کے ساتھ خون ریزی کی اور وطن سے نکال کر خود وہاں کے حکمراں بن گئے

Surah: 2 : al-Baqarah, Verse: 85

ثُمَّ أَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقً۬ا مِّنكُم مِّن دِيَـٰرِهِمْ تَظَـٰهَرُونَ عَلَيْهِم بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٲنِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَـٰرَىٰ تُفَـٰدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ‌ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَـٰبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ۬‌ۚ فَمَا جَزَآءُ مَن يَفْعَلُ ذَٲلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْىٌ۬ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا‌ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰٓ أَشَدِّ ٱلْعَذَابِ‌ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں(

ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺳﻠﻔﯽ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺟﮩﺎﺩﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ

ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ، ﻗﻄﺮ ، ﮐﻮﯾﺖ ،ﯾﻮ ﺍﮮ ﺍﯼ ﮐﮯ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ،ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﻋﺮﺏ ﺷﯿﻮﺥ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻣﻠﭩﯽ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﮐﻤﭙﻨﯿﺎﮞ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﻗﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ، ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﮮ ﻟﻮ ﭘﺮﻭﻓﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻠﮑﺮ ﮐﺮﮨﯽ ﮨﯿﮟ
ﺟﺒﮑﮧ ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺳﻠﻔﯽ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺟﮩﺎﺩﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺻﻮﻓﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﻋﻼﻣﺘﻮﮞ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ،ﺗﺒﺮﮐﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﺛﺎﺭ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﮨﺎﺏ ﮐﯽ ﺁﺋﯿﮉﻳﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﮯ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﻻﻟﭻ ﺩﯾﮑﺮ ﻧﻔﺎﺯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺩﮬﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ،ﺑﺪﺍﻣﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﺁﺷﺎﻡ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﮈﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻓﺮﻗﮧ ﻭﺍﺭﺍﻧﮧ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﻠﯽ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯﺍﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﯿﮟ
ﻋﺮﺍﻕ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺧﺎﺭﺟﯽ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﺩﺍﻋﺶ / ﺩﻭﻝ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺮﺍﻗﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﻣﻘﺘﻞ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﺍﻋﺶ ﺑﮭﯽ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮨﺎﺑﯽ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ

کئی سو سو سال سے موجود صحابہ صحابیات ام المومینین کے مقبرے سو
سعودیہ حکومت نے توڈ دیے ؟؟

آج کچھ  لوگ بولتے ہیں سعودیہ میں تو کسی صحابی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے مزار نہیں ہیں

سعودیہ کے وہابی نجدی قوم نے حجاز پر 1925 میں حملہ کیا اور سنی فرقے اور دوسرے فرقوں کا خون کیا اور وطن سے نکال دیا اور 1932 میں حجاج کا نام اپنے باپ کے نام پر سعودیہ دکھا

ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ 10 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﻭ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﯿﮟ ﮨﺠﺮﺕ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﮔﮭﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺭﺩﺍﺭ ﺟﮭﺎﮌﯾﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﻈﻌﻮﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﺮ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺯﻭﺍﺝ ﻣﻄﮩﺮﺍﺕ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﺖ ﺍﻟﺒﻘﯿﻊ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺧﺎﺹ ﺧﺎﺹ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ
۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﻘﺒﺮﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻘﺒﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﮐﭽﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﻦ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺒﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﺟﻨﻮﺏ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﮔﻮﺷﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺒﻘﯿﻊ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﻠﯿﻤﮧ ﺳﻌﺪﯾﮧ ، ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺻﻔﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﯾﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ۔

ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﮮ ،ﻋﺮﺍﻕ ﭘﺮ ﺑﺮﮐﺖ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮ ،ﯾﻤﻦ ﭘﺮ ﺑﺮﮐﺖ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮ
ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺠﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﯾﮟ
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮫ ﻧﺠﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎﺋﮯ ﺧﻴﺮ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮐﯿﺎ ،ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﯿﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﻧﺠﺪ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﻗﺮﻥ ﺍﻟﺸﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﻇﮩﻮﺭ ﮨﻮﮔﺎ
ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺧﻄﺎﺏ ﻓﺮﻣﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﻧﺠﺪ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ
ﺍﻋﺪﻝ ﯾﺎ ﻣﺤﻤﺪ
ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺭﻭﺋﮯ ! ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺪﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ
ﯾﮧ ﺳﻨﮑﺮ ﮦ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ،ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﮈﺍ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ

ﺁﭖ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﻧﺠﺪ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺷﺮﯾﺮ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﺎ ﻇﮩﻮﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺣﻘﯿﺮﻟﮕﮯ ﮔﯽ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﻣﺤﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﭨﺨﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﭩﮭﮯ ﭘﮍﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ،ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺧﻮﺏ ﮔﮭﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻣﻨﮉﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻭ ﮐﻔﺎﺭ ﺣﺎﺭﺑﯿﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﺴﭙﺎﮞ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﻣﺒﺎﺥ ﭨﮭﮩﺮﺍﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮ ﮐﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﺅ ﻭﮨﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ
ﻣﺨﺒﺮ ﺻﺎﺩﻕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﭻ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮨﻤﯿﮟ

ﺍﻟﻘﺎﺋﺪﮦ ،ﺍﻟﻨﺼﺮﮦ ،ﺩﺍﻋﺶ ﻟﺸﮑﺮ ﺟﮭﻨﮕﻮﯼ ،ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ
ﺟﯿﺴﮯﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﭘﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
وہابی اب سبز گنبد توڑنے پر تل گئے دیکھئے نیچے دیے ہوئے لنک پر کلک کرکے ویڈیوز جس میں سبز گنبد توڑنے کی بات کررہے ہیں یہ لوگ

1..https://youtu.be/6vpq8GcPOOI

2..https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=740665646103511&id=545160332320711

3..https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=740665832770159&id=545160332320711

4..https://youtu.be/mEnFl_2QwWo

5..https://youtu.be/4idPflxWqAg